رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔
حلال وَپاکیزہ رزق۔
پچھلے باب میں بیان کردہ حرام اشیاء کے علاوہ، زمین سے حاصل ہونے والی تمام پاک، عمدہ اور قابلِ استعمال غذائیں جو انسانی خوراک کے لائق ہوں، اسلام میں حلال وَ پاکیزہ رزق قرار دیا گیا ہے۔ ان میں کاشت شدہ کھیتوں کی پیداوار کے ساتھ ساتھ قدرتی طور پر اگنے والی جنگلی جڑی بوٹیاں، پھل، جنگلی اناج اور معدنیات بھی شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے زمین پر اگنے والی یا جنگلات میں قدرتی طور پر پیدا ہونے والی کسی بھی چیز کو بذاتِ خود ناپاک قرار نہیں دیا۔ البتہ بعض اشیاء نشہ آور یا زہریلی ہو سکتی ہیں، جبکہ ان میں طبی فوائد بھی پوشیدہ ہو سکتے ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی، اس لیے ان کا استعمال حکمت، احتیاط اور تجربے کے ساتھ ہی کرنا چاہیے۔
خُدا فرماتا ہے: اے لوگو! زمین میں جو کچھ ہے، اُس سے حلال وَ پاکیزہ رزق کھاؤ، اور شیطان کے قدموں پر مت چلو؛ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔
قُل لَّاۤ اَجِدُ فِىۡ مَاۤ اُوۡحِىَ اِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطۡعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّكُوۡنَ مَيۡتَةً اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِيۡرٍ فَاِنَّهٗ رِجۡسٌ اَوۡ فِسۡقًا اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖۚ ﴿۱۴۵﴾
Q-06:145(اے نبی) کہو کہ جو کچھ مجھ پر وحی کی گئی ہے اس میں میں کھانے والے کے لیے کوئی چیز حرام نہیں پاتا، سوائے مردار، بہتا ہوا خون، خنزیر کا گوشت، کیونکہ وہ ناپاک ہے یا اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا جانے والا جانور۔
فَكُلُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا وَّاشۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۱۱۴﴾
Q-16:114پس اللہ کی دی ہوئی حلال اور پاکیزہ روزی کھاؤ اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔
يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوۡا مِمَّا فِى الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَيِّبًا وَّلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِؕ اِنَّهٗ لَـكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴿۱۶۸﴾
Q-02:168اے لوگو! زمین پر جو کچھ حلال اور پاک ہے اسے کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
استثناء (مجبوری کی حالت میں) ۔
قرآنِ کریم نے اضطراری حالت میں بعض حرام اشیاء کے استعمال کی اجازت دی ہے، لیکن یہ رخصت صرف شدید مجبوری کے تحت ہے، جب حلال اور پاکیزہ غذا میسر نہ ہو، بھوک اس حد تک شدید ہو کہ جان کو خطرہ لاحق ہو، یا کوئی شے علاج کے لیے ناگزیر ہو۔ اس اجازت کی بھی چند شرائط ہیں:
آدمی صرف بقدرِ ضرورت استعمال کرے۔
حد سے تجاوز نہ کریں۔ یعنی بھرپیٹ نہ کھائے۔
اور اپنے دل میں اس شے کی حرمت کا اعتقاد برقرار رکھے۔
لہٰذا یہ حکم عام حالات کے لیے نہیں بلکہ صرف حقیقی اضطرار کے مواقع کے لیے ہے۔
فَمَنِ اضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴿۱۷۳﴾
Q-02:173پھر جو شخص سخت مجبور ہو جائے، نہ حد سے گزرنے والا ہو نہ زیادتی کرنے والا، تو اُس پر (حرام چیز کھانے پر) کوئی گناہ نہیں۔ یقیناً اللہ بڑا بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
فَمَنِ اضۡطُرَّ فِىۡ مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴿۳﴾
Q-05:03پھر جو کوئی شدید بھوک کی حالت میں مجبور ہو جائے، بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف جھکے، تو بے شک اللہ بہت بخشنے والا اور رحیم ہے
فَمَنِ اضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴿۱۴۵﴾
Q-06:145, 16:115پھر جو شخص (بھوک سے) سخت مجبور ہو جائے، نہ حد سے گزرنے والا ہو نہ حد سے تجاوز کرنے والا، تو یقیناً تمہارا ربّ بہت بخشنے والا، بے حد رحم کرنے والا ہے ﴿۱۴۵﴾
**********